غزل - ۱۸

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا؟

کبھی تو نہ توڑ سکتا، اگر استوار ہوتا

یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

 کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غمگسار ہوتا

جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا

غمٕ عشق اگر نہ ہوتا، غمِ روزگار ہوتا

مجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا

نہ کبھی جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا

جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دوچار ہوتا

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا

ترے وعدے پر جیے ہم، تو یہ جان جھوٹ جانا

تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیمکش کو

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح

رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا

غم اگرچہ جاںگسل ہے، پہ بچیں کہاں کہ دل ہے!

 کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، شبِ غم بری بلا ہے

ہوئے مرکے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریا

اُسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا

 یہ مسائلِ تصوّف، یہ ترا بیان غالب

 تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

* * * * * *

Girl Friend

Actually the word "girl friend" has poor meaning it should be "Nature Friend" will some one agree with me.
Waiting For Reply
M.SAQIB
absaqib@yahoo.com

Any one intrests in Intelligent Boys

Is some one who wants to contact me because i want to shair with someone. I have soft corner for both male and female.
M.SAQIB
absaqib@yahoo.com