فتح سومناتھ:۱۰۳۸-۹۹۸ء
| فتح سومناتھ:۱۰۳۸-۹۹۸ء |
| سبکتگین۹۶۲ء میں غزنی کا حکمران بنا اور اس نے نہایت
بہادری و دلیری سے اپنی سلطنت کا دائرہ وسیع کرنا شروع کیا۔ ہندوستان کے
راجہ جے پال کو غزنی کے استحکام میں خطرہ محسوس ہوا لہٰذا اس نے غرنی کو
تباہ کرنے کا فیصلہ کر کیاس پر حملہ کر دیا مگر اسے شکست ہوئی اور وہ
ہرجانہ ادا کرنے کے لئے تیار ہوگیا تاہم اپنے وعدے سے پھر کر وہ ایک بار
پھر میدان میں اترا اور دوبارہ شکست کا منہ دیکھا۔ عظیم سلطان محمود غزنوی
جس کے باعث ایشیا میں غزنویوں کا نام مشہور ہوا اپنے والد سبکتگین کے بعد
تخت نشین ہوا۔
جے پال نے ہرجانے کی ادائیگی روک دی محمود نے ۱۰۰۱ء میں اسے شکست دی اور جے پال نے خود کو آگ کے حوالے کردیا۔ بعد ازاں جے پال کے بیٹے آنند پال نے Ujjain ، گوالیار، کالنجار ، Kannawj، دہلی اور اجمیر کے ہندو راجاؤں کا اتحاد تشکیل دیا۔ اس اتحاد کو بھی محمود کے ہاتھوں شکست ہوئی محمود نے لاہور میں قیام کے لئے ایک گورنر مقرر کردیا۔ محمود نے ہندوستان پر ۱۷ حملے کئے ناگار کوٹ، تھانیسار ،Kannawjاور کالنجار سب فتح کرلئے گئے تاہم انہیں ہندو راجاؤں کی تحویل میں ہی چھوڑ دیا گیا۔محمود کا مشہور ترین حملہ گجرات، کاٹھیاواڑ میں ہندوؤں کی مشہور عبادت گاہ سومناتھ پر تھا راجستھان کے دشوار گزار صحرا کو عبور کرکے محمود وہاں پہنچا اور ہندوستان کے تقریباً تمام ہندو راجاؤں کی مشترکہ فوج کا سامنا کیامحمود ایک عظیم سپہ سالار تھا جسکی شجاعت کی کوئی حد نہ تھی محمود نے دشمن کو شکست دی اور شہر پر قبضہ کرکے مندر میں داخل ہوگیامحمود کو مندر میں داخل نہ ہونے اور بتوں کو نقصان نہ پہنچانے کے صلے میں بے تحاشا دولت کی پیش کش کی گئی مگر اُس نے یہ کہہ کرکہ میں تاریخ میں بت فروش کی بجائے بت شکن کے طور پر پہچانا جانا چاہتا ہوں اس پیش کش کو مسترد کردیا۔ اس عظیم سلطان نے اپنی طاقت کے عروج میں ہندوستان میں جمنا سے لے کر مغرب میں تغرس تک ایک وسیع و عریض سلطنت پر حکومت کی۔ |

