Skip to content
UrduSeek.com

غزل - ۱

نقش فریادی ہے کس کی شوخیٴ تحریر کا؟کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

کاؤ کاوِ سخت جانیہائے تنہائی، نہ پوچھصبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئیشِیر کا

جذبہٴ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیےسینہٴ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائےمدعا عنقا ہے اپنے عالَمِ تقریر کا

بسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیرپاموئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا


جراحت تحفہ، الماس ارمغاں، داغ جگر ہدیہمبارک باد اسد، غمخوارِ جانِ دردمند آیا