Skip to content
UrduSeek.com

غزل - ۲۵

جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھاتپشِ شوق نے ہر ذرے پہ اک دل باندھا

اہل بینش نے بہ حیرت کدہٴ شوخیٴ نازجوہرِ آئینہ کو طوطیٴ بسمل باندھا

یاس و امید نے یک عربدہ میداں مانگاعجزِ ہمت نے طلسمِ دلِ سائل باندھا

نہ بندھے تشنگیٴ ذوق کے مضموں، غالبگرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا


میں اور بزمِ مے سے یوں تشنہ کام آؤںگر میں نے کی تھی توبہ، ساقی کو کیا ہوا تھا

ہے ایک تیر جس میں دونوں چھدے پڑے ہیںوہ دن گئے کہ اپنا دل سے جگر جدا تھا

درماندگی میں غالب کچھ بن پڑے تو جانوںجب رشتہ بیگرہ تھا، ناخن گرہ کشا تھا