Skip to content
UrduSeek.com

غزل - ۶

دھمکی میں مرگیا جو، نہ بابِ نبرد تھاعشقِ نبرد پیشہ طلبگارِ مرد تھا

تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوااڑنے سے پیشتر بھی مِرا رنگ زرد تھا

تالیف نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میںمجموعہٴ خیال ابھی فرد فرد تھا

دل تا جگر کہ ساحل دریائے خوں ہے اباس رہگزر میں جلوہٴ گل آگے گرد تھا

جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہِ عشق کی؟دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا

احباب چارہ سازیٴ وحشت نہ کرسکےزنداں میں بھی خیال بیاباں نورد تھا

یہ لاشِ بے کفن اسدِ خستہ جاں کی ہےحق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا