غزل - ۱۱
محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کایاں ورنہ جو حجاب ہے، پردہ ہے ساز کا
رنگ شکستہ صبحِ بہارِ نظارہ ہےیہ وقت ہے شگفتنِ گل ہائے ناز کا
تو اور سوئے غیر نظر ہائے تیز تیزمیں اور دُکھ تری مِژہ ہائے دراز کا
صرفہ ہے ضبطِ آہ میں میرا، وگرنہ میںطَعمہ ہوں ایک ہی نفسِ جاں گداز کا
ہیں بسکہ جوشِ بادہ سے شیشے اچھل رہےہر گوشہٴ بساط ہے سر شیشہ باز کا
کاوش کا، دل کرے ہے تقاضا کہ ہے ہنوزناخن پہ قرض اس گرہِ نیم باز کا
تاراجِ کاوشِ غمِ ہجراں ہوا، اسد!سینہ، کہ تھا دفینہ گہر ہائے راز کا
