غزل - ۱۲
بزمِ شاہنشاہ میں اشعار کا دفتر کھلارکھیو یارب یہ درِ گنجینہٴ گوہر کھلا
شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلااِس تکلف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا
گرچہ ہوں دیوانہ، پر کیوں دوست کا کھاؤں فریبآستیں میں دشنہ پنہاں، ہاتھ میں نشتر کھلا
گو نہ سمجھوں اس کی باتیں، گونہ پاؤں اس کا بھیدپر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ پری پیکر کھلا
ہے خیالِ حُسن میں حُسنِ عمل کا سا خیالخلد کا اک در ہے میری گور کے اندر کھلا
منہ نہ کھلنے پر وہ عالم ہے کہ دیکھا ہی نہیںزلف سے بڑھ کر نقاب اُس شوخ کے منہ پر کھلا
در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کے کیسا پھر گیاجتنے عرصے میں مِرا لپٹا ہوا بستر کھلا
کیوں اندھیری ہے شبِ غم، ہے بلاؤں کا نزولآج اُدھر ہی کو رہے گا دیدہٴ اختر کھلا
کیا رہوں غربت میں خوش، جب ہو حوادث کا یہ حالنامہ لاتا ہے وطن سے نامہ بر اکثر کھلا
اس کی امت میں ہوں مَیں، میرے رہیں کیوں کام بندواسطے جس شہ کے غالب گنبدِ بے در کھلا
