غزل - ۲۰
درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہواپھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا
بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں، کہ ہمالٹے پھر آئے درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا
سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کاروبرو کوئی بتِ آئينہ سیما نہ ہوا
کم نہیں نازشِ ہمنامیٴ چشمِ خوباںتیرا بیمار، برا کیا ہے، گر اچھا نہ ہوا
سینے کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیاخاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا
نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملاکام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا
ہر بُنِ مو سے دمِ ذکر نہ ٹپکے خوننابحمزہ کا قِصّہ ہوا، عشق کا چرچا نہ ہوا
قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کُلکھیل لڑکوں کا ہوا، دیدہٴ بینا نہ ہوا
تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پرزےدیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا
اسد ہم وہ جنوں جولاں گدائے بے سر و پا ہیںکہ ہے سر پنجہٴ مژگانِ آہو پشت خار اپنا
