Skip to content
UrduSeek.com

غزل - ۲۷

یک ذرہٴ زمیں نہیں بے کار باغ کایاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا

بے مے کِسے ہے طاقتِ آشوبِ آگہیکھینچا ہے عجزِ حوصلہ نے خط ایاغ کا

بُلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گلکہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا

تازہ نہیں ہے نشہٴ فکرِ سخن مجھےتِریاکیٴِ قدیم ہوں دُودِ چراغ کا

سو بار بندِ عشق سے آزاد ہم ہوئےپر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا

بے خونِ دل ہے چشم میں موجِ نگہ غباریہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا

باغِ شگفتہ تیرا بساطِ نشاطِ دلابرِ بہار خمکدہ کِس کے دماغ کا!