غزل - ۳۷
جور سے باز آئے، پر باز آئیں کیاکہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
رات دن گردش میں ہیں سات آسماںہو رہے گا کچھ نہ کچھ، گھبرائیں کیا
لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاؤجب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
ہو لئے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھیا رب اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا؟
موج خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائےآستانِ یار سے اٹھ جائیں کیا؟
عمر بھر دیکھا کئے مرنے کی راہمر گئے پر، دیکھیے دکھلائیں کیا
پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہےکوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتیچمن زنگار ہے آئینہٴ بادِ بہاری کا
حریفِ جوششِ دریا نہیں خودداریٴ ساحلجہاں ساقی ہو تو، باطل ہے دعویٰ ہو شیاری کا
