Skip to content
UrduSeek.com

غزل - ۲۲

گر نہ اندوہِ شبِ فرقت بیاں ہو جائے گابے تکلف، داغِ مہ مُہرِ دہاں ہوجائے گا

زہرہ گر ایسا ہی شامِ ہجر میں ہوتا ہے آبپر توِ مہتاب سیلِ خانماں ہوجائے گا

لے تو لوں سوتے میں اس کے پانؤ کا بوسہ مگرایسی باتوں سے وہ کافر بدگماں ہوجائے گا

دل کو ہم صرفِ وفا سمجھے تھے، کیا معلوم تھایعنی یہ پہلے ہی نذرِ امتحاں ہوجائے گا

سب کے دل میں ہے جگہ تیری، جو تو راضی ہوامجھ پہ گویا اک زمانہ مہرباں ہوجائے گا

گر نگاہِ گرم فرماتی رہی تعلیمِ ضبطشعلہ خس میں، جیسے خوں رگ میں، نہاں ہوجائے گا

باغ میں مجھ کو نہ لے جا ورنہ میرے حال پرہر گلِ تر ایک چشمِ خوں فشاں ہوجائے گا

واے گر میرا ترا انصاف محشر میں نہ ہواب تلک تو یہ توقع ہے کہ واں ہوجائے گا

فائدہ کیا سوچ، آخر تو بھی دانا ہے اسددوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہوجائے گا