غزل - ۳۲
شب کہ وہ مجلس فروزِ خلوتِ ناموس تھارشتہٴ ہر شمع خارِ کسوتِ فانوس تھا
مشہد عاشق سے کوسوں تک جو اُگتی ہے حناکس قدر یا رب ہلاکِ حسرتِ پابوس تھا
حاصلِ الفت نہ دیکھا جز شکستِ آرزودل بہ دل پیوستہ،، گویا، یک لبِ افسوس تھا
کیا کروں بیماریِ غم کی فراغت کا بیاںجو کہ کھایا خونِ دل، بے منتِ کیموس تھا
آئينہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئےصاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریےاس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
