غزل - ۳۳
عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہاجس دل پہ ناز تھا مجھے، وہ دل نہیں رہا
جاتا ہوں داغِ حسرتِ ہستی لئے ہوئےہوں شمعِ کشتہ، در خورِ محفل نہیں رہا
مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میںشایانِ دست و بازوےٴ قاتل نہیں رہا
بر روئے شش جہت در آئینہ باز ہےیاں امتیازِ ناقص و کامل نہیں رہا
وا کر دیئے ہیں شوق نے بندِ نقابِ حسنغیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
گو میں رہا رہینِ ستمہائے روزگارلیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
دل سے ہواے کشتِ وفا مٹ گئی کہ واںحاصل سوائے حسرتِ حاصل نہیں رہا
بیدادِ عشق سے نہیں ڈرتا، مگر اسد!جس دل پہ ناز تھا مجھے، وہ دل نہیںرہا
