غزل - ۲۹
پھر مجھے دیدہٴ تر یاد آیادل، جگر تشنہٴ فریاد آیا
دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوزپھر ترا وقتِ سفر یاد آیا
سادگیہائے تمنا، یعنیپھر وہ نیرنگِ نظر ياد آیا
عذر واماندگی، اے حسرتِ دل!نالہ کرتا تھا، جگر یاد آیا
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتیکیوں ترا راھگزر یاد آیا
کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگیگھر ترا خلد میں گر یاد آیا
آہ وہ جرأت فریاد کہاںدل سے تنگ آکے جگر یاد آیا
پھر تیرے کوچے کو جاتا ہے خیالدلِ گم گشتہ، مگر، یاد آیا
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے!دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدسنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
