Skip to content
UrduSeek.com

غزل - ۲

جزقیس اور کوئی نہ آیا بہ روے کارصحرا مگر بہ تنگیٴ چشمِ حسود تھا

آشفتگی نے نقش سویدا کیا درستظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا

تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہجب آنکھ کھل گئی، نہ زیاں تھا نہ سود تھا

لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوزلیکن یہی کہ رفت، گیا اور بود تھا

ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگیمیں ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا

تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن، اسد!سرگشہٴ خمارِ رسوم و قیود تھا