Skip to content
UrduSeek.com

غزل - ۱۸

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتااگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

ترے وعدے پر جیے ہم، تو یہ جان جھوٹ جاناکہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا؟

تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بوداکبھی تو نہ توڑ سکتا، اگر استوار ہوتا

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیمکش کویہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصحکوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غمگسار ہوتا

رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتاجسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا

غم اگرچہ جاںگسل ہے، پہ بچیں کہاں کہ دل ہے!غمٕ عشق اگر نہ ہوتا، غمِ روزگار ہوتا

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، شبِ غم بری بلا ہےمجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا

ہوئے مرکے ہم جو رسوا، ہوئے کیوں نہ غرقِ دریانہ کبھی جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا

اُسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتاجو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دوچار ہوتا

یہ مسائلِ تصوّف، یہ ترا بیان غالبتجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا