Skip to content
UrduSeek.com

غزل - ۲۴

گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگیٴ جا کاگہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا

یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخ مکتوب!مگر ستمزدہ ہوں ذوقِ خامہ فرسا کا

حنائے پائے خزاں ہے بہار اگر ہے یہیدوامِ کلفتِ خاطر ہے عیش دنیا کا

غمِ فراق میں تکلیفِ سیرِ باغ نہ دومجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا

ہنوز محرمیٴ حسن کو ترستا ہوںکرے ہے ہر بُنِ مو کام چشمِ بینا کا

دل اس کو، پہلے ہی ناز و ادا سے، دے بیٹھےہمیں دماغ کہاں حسن کے تقاضا کا

نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدارِ حسرتِ دل ہےمری نگاہ میں ہے جمع و خرج دریا کا

فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اُس کو یاد اسدجفا میں اس کی ہے انداز کارفرما کا


قطرہٴ مے بسکہ حیرت سے نفس پرور ہواخطِ جامِ مے سراسر، رشتہٴ گوہر ہوا

اعتبارِ عشق کی خانہ خرابی دیکھناغیر نے کی آہ، لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا