غزل - ۳
کہتے ہو نہ دیں گے ہم، دل اگر پڑا پایادل کہاں کہ گم کیجے، ہم نے مُدّعا پایا
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایادرد کی دوا پائی، دردِ بے دوا پایا
دوستدارِ دشمن ہے، اعتمادِ دل معلوم!آہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا
سادگی و پرکاری، بیخودی و ہشیاریحسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا
غنچہ پھر لگا کِھلنے، آج ہم نے اپنا دلخوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا
حالِ دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنیہم نے بارہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا
شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکاآپ سے کوئی پوچھے، تم نے کیا مزا پایا؟
