Skip to content
UrduSeek.com

غزل - ۱۴

ایک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حسابخونِ جگر ودیعتِ مژگانِ یار تھا

اب میں ہوں اور ماتمِ یک شہرِ آرزوتوڑا جو تو نے آئينہ، تمثال دار تھا

گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو، کہ میںجاں دادہٴ ہوائے سرِ رہگزار تھا

موجِ سرابِ دشتِ وفا کا نہ پوچھ حالہر ذرہ، مثلِ جوہرِ تیغ، آب دار تھا

کم جانتے تھے ہم بھی غمِ عشق کو، پر ابدیکھا تو کم ہوئے پہ غمِ روزگار تھا