غزل - ۳۵
ذکر اس پری وش کا، اور پھر بیاں اپنابن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
مے وہ کیوں بہت پیتے بز مِ غیر میں یا ربآج ہی ہوا منظور اُن کو امتحاں اپنا
منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتےعرش سے اُدھر ہوتا، کاشکے مکاں اپنا
دے وہ جس قد ر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گےبارے آشنا نکلا، ان کا پاسباں، اپنا
در دِ دل لکھوں کب تک، جاؤں ان کو دکھلادوںانگلیاں فگار اپنی، خامہ خونچکاں اپنا
گھستے گھستے مٹ جاتا، آپ نے عبث بدلاننگِ سجدہ سے میرے، سنگِ آستاں اپنا
تا کرے نہ غمازی، کرلیا ہے دشمن کودوست کی شکایت میں ہم نے ہمزباں اپنا
ہم کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھےبے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا
سرمہٴ مفتِ نظر ہوں، مری قیمت یہ ہےکہ رہے چشمِ خریدار پہ احساں میرا
رخصتِ نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالمتیرے چہرے سے ہو ظاہر غمِ پنہاں میرا
