Skip to content
UrduSeek.com

غزل - ۳۰

ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھاآپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھا

تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہاس میں کچھ شائبہٴ خوبیِ تقدیر بھی تھا

تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں؟کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا

قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یادہاں کچھ اک رنجِ گرانباریِ زنجیر بھی تھا

بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا!بات کرتے کہ میں لب تشنہٴ تقریر بھی تھا

یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے، خیر ہوئیگر بگڑ بیٹھے تو میں لائقِ تعزیر بھی تھا

دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈانالہ کرتا تھا، ولے طالبِ تاثیر بھی تھا

پیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نامہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جوانمیر بھی تھا

ہم تھے مرنے کو کھڑے، پاس نہ آیا، نہ سہیآخر اُس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحقآدمی کوئی ہماراَدمِ تحریر بھی تھا؟

ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبکہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا


لب خشک در تشنگی مردگاں کازیارتکدہ ہوں دل آزردگاں کا

ہمہ نا امیدی، ہمہ بد گمانیمیں دل ہوں فریبِ وفا خوردگاں کا