غزل - ۲۳
درد مِنّت کشِ دوا نہ ہوامیں نہ اچھا ہوا، برا نہ ہوا
جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کواک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا
ہم کہاں قسمت آزمانے جائیںتو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا
کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیبگالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
ہے خبر گرم ان کے آنے کیآج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
کیا وہ نمرود کی خدائی تھی؟بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا
جان دی، دی ہوئی اسی کی تھیحق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
زخم گر دب گیا، لہو نہ تھماکام گر رک گیا روا نہ ہوا
رہزنی ہے کہ دلستانی ہے؟لے کے دل، دلستاں روانہ ہوا
کچھ تو پڑھیئے کہ لوگ کہتے ہیںآج غالب غزل سرا نہ ہوا
