Skip to content
UrduSeek.com

غزل - ۳۱

تو دوست کسی کا بھی، ستمگر! نہ ہوا تھااوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا

چھوڑا مہٴ نخشب کی طرح دستِ قضا نےخورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا

توفیق بہ اندازہٴ ہمت ہے ازل سےآنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا

جب تک کہ نہ دیکھا تھا قدِ یار کا عالممیں معتقدِ فتنہٴ محشر نہ ہوا تھا

میں سادہ دل، آزردگیِ یار سے خوش ہوںیعنی سبقِ شوقِ مکرّر نہ ہوا تھا

دریائے معاصیُتنک آبی سے ہوا خشکمیرا سرِ دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا

جاری تھی اسد داغِ جگر سے مری تحصیلآ تشکدہ جاگیرِ سمندر نہ ہوا تھا